ایسا نہ کیجیے۔ ارے ایسا نہ کیجیے
بجلی ہمارے دل پہ ،گرایا نہ کیجیے
زلفوں کو ایسےرُخ ،پہ ڈالا
نہ کیجیے
روشنی نہیں رہتی ہے چراغوں میں اس کے بعد
سنگار کر کے محفل میں، آیا نہ کیجیے
بربادیِ دِل کا قصہ سنائیں توکسے ...................................................................................................................................................................................................................... احباب میرے بہرے ہیں کچھ کر نہیں سکتے
ایسا نہ کیجیے۔ ارے ایسا نہ کیجیے
بجلی ہمارے دل پہ ،گرایا نہ کیجیے
زلفوں کو ایسےرُخ ،پہ ڈالا
نہ کیجیے
روشنی نہیں رہتی ہے چراغوں میں اس کے بعد
سنگار کر کے محفل میں، آیا نہ کیجیے
Types
of Pronoun:
There are three types of personal pronouns. Those
are first person, second person, and third person.
Each type has four
cases. Which are subjective, objective, possessive and reflexive.
|
Pronouns |
|
Subjective |
Objective |
Possessive |
Reflexive |
خوب صورت سُوٹ اور جدید فیشن کا پرس ، سَن گلاسزلگائے،شکل وصورت اور لباس سے وہ تعلیم یافتہ اور مہذب لگ رہی تھی ۔ میرے پہنچنے سے پہلے وہ فروٹس شاپ پہ کھڑی تھی اور دکان دار اس کی مطلوبہ چیزیں تیار کرنے میں مگن تھا ۔ میرے سلام کے جواب میں دکان دار نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھائی جان بس دو منٹ ۔
کوچ اڈے پر پہنچ کررُکی تو ڈرائیور نے کہا کہ کچھ فیمل
سواریوں کو تھانے سے تھوڑا آگے اُتار کر آپ کو گھر پہنچادیتا ہوں۔ لیکن میں نےمنع
کردیا کیوں کہ میرا ارادہ تھا کہ کچھ فروٹ وغیرہ بازارسے لیتا جاؤں گالیکن جب
فروٹس کی دکانوں پر پہنچا تو ساری بند ہوگئی تھیں۔میں نے جیب سے موبائل نکال کر
ٹائم دیکھاتو عشاء کی نماز کے بعد تقریباگھنٹہ گزر گیا تھا۔تو خالی ہاتھ گھر کی
راہ لی۔مین روڈ سے مُڑ کر رہائشی علاقے میں داخل ہوگیا تھا اور گلیوں میں سے ہوتا
ہوا تیز تیز قدم اُٹھاتے ہوئے گھر کی طرف
بڑھ رہا تھا ۔ کہ ایک آواز نے میری رفتار کم کردی ۔
نمازمغرب کے لیے صفیں سیدھی کی جارہی تھیں کہ میں پہنچا۔ ایک صف میں جگہ پاکر کھڑا ہوگیا ۔لوگوں کےصحیح طرح سے کھڑا ہونے پر ہر صف میں ایک دو بندوں کےلیے جگہ بننے لگی۔ میرے پہلو میں بھی ایک بندے کی جگہ خالی ہوگئی، تو پچھلی صفوں میں سے کوئی آکر میرے ساتھ کھڑا ہوا ۔ "اُف !!!! یا اللہ خیر " میرے منہ سے نکلا تو اُس شخص نے حیرت اور پریشانی کی عالم میں مجھے پکڑ لیا اور پوچھنے لگا کہ "کیا ہوا، کیا ہوا؟"
مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں