ایسا نہ کیجیے۔ ارے ایسا نہ کیجیے
بجلی ہمارے دل پہ ،گرایا نہ کیجیے
زلفوں کو ایسےرُخ ،پہ ڈالا
نہ کیجیے
روشنی نہیں رہتی ہے چراغوں میں اس کے بعد
سنگار کر کے محفل میں، آیا نہ کیجیے
بربادیِ دِل کا قصہ سنائیں توکسے ...................................................................................................................................................................................................................... احباب میرے بہرے ہیں کچھ کر نہیں سکتے
ایسا نہ کیجیے۔ ارے ایسا نہ کیجیے
بجلی ہمارے دل پہ ،گرایا نہ کیجیے
زلفوں کو ایسےرُخ ،پہ ڈالا
نہ کیجیے
روشنی نہیں رہتی ہے چراغوں میں اس کے بعد
سنگار کر کے محفل میں، آیا نہ کیجیے
Types
of Pronoun:
There are three types of personal pronouns. Those
are first person, second person, and third person.
Each type has four
cases. Which are subjective, objective, possessive and reflexive.
|
Pronouns |
|
Subjective |
Objective |
Possessive |
Reflexive |