Tuesday, March 1, 2022

ایسا نہ کیجیے ۔ ارے ایسانہ کیجیے

ایسا نہ کیجیے۔ ارے ایسا نہ کیجیے

بجلی ہمارے دل پہ ،گرایا نہ کیجیے

زلفوں کو ایسےرُخ ،پہ ڈالا  نہ کیجیے

 

روشنی نہیں رہتی ہے چراغوں میں اس کے بعد

سنگار کر کے محفل میں، آیا نہ کیجیے

 

ہے خوب یہ ادا، مگر ہم جلتے بھی ہیں



No comments:

Post a Comment